228

محنت کشوں کی فلاح اور حکومت پنجاب تحریر ۔ سبحان علی

وزیراعلیٰ پنجاب محمدشہبازشریف محنت کشوں اورمزدورں کی بھلائی اور فلاح وبہبود پر پختہ یقین رکھتے ہیں اس سلسلے میں مزدور دوست پالیسیوں پر عمل کیا جارہا ہے تاکہ محنت کشوں اورمزدوروں کے حالات کار بہتر بنا کر انہیں آسودہ زندگی بسرکرنے کے بھرپور مواقع فراہم کئے جاسکیں۔محنت کش ہمارے معاشرے کا اہم طبقہ ہے جو صنعتوں سمیت ہر شعبہ زندگی میں محنت کش اپنا اہم کردار ادا کررہا ہے جن کی محنت اور جفاکشی سے معیشت کا پہیہ رواں دواں ہے اور وہ صنعتی ومعاشی ترقی کے لئے اپنا خون پسینہ بہاتے ہیں جنہیں کسی صورت نظرانداز نہیں کیاجاسکتا۔یکم مئی پاکستان سمیت عالمی سطح پرلیبر ڈے کے طور پرمنایا جاتا ہے اگرچہ اس دن کومزدوروں کے ساتھ 1886میں شگاگو میں ہونے والے ظلم واستبداد کی یاد میں منایا جاتا ہے تاہم دین اسلام نے محنت کی عظمت کو خاص مقام دیا ہے اور حدیث پاک کے مطابق محنت کش کو اللہ کا دوست قرار دیا گیا ہے اور حکم ہوا ہے کہ مزدور کی مزدوری اس کا پسینہ خشک ہونے سے پہلے ادا کی جائے۔اس طرح دین اسلام نے مزدوروں کے حقوق کے تحفظ پر زور دیا ہے ۔آج کا صنعتی دور کروڑوں محنت کشوں کی محنت اور جدوجہد سے عبارت ہے ۔کارخانوں،کھیتوں کھلیانوں،دکانوں اور دیگر صنعتوں میں مزدورکام کرتے ہوئے نظر آتے ہیں جن کی فلاح وبہبود اوربھلائی کو نظر انداز نہیں کیاجاسکتااور نہ ہی ان کیساتھ کسی قسم کی جبر و زیادتی اور ناانصافی کو برداشت کیا جاسکتا ہے کیونکہ محنت کش طبقہ اپنا خون اور پسینہ انفرادی اوراجتماعی ترقی کے لئے بہاتا ہے لہذا محنت کشوں اوران کے خاندانوں کی زندگیوں کو آسودہ ہونا چاہیے۔حکومت محنت کشوں اور صنعتی کارکنوں کی بھلائی اور بحالی کے متعدد فلاحی منصوبوں پر عمل پیرا ہے ۔ان کی کم ازکم اجرت کا تعین کرکے اس کی ادائیگی کویقینی بنایاگیا ہے۔علاوہ ازیں محنت کشوں کیلئے حالات کار بہتر بنانے پر خصوصی توجہ دی جارہی ہے۔انہیں سوشل سیکورٹی کا سماجی تحفظ حاصل ہے جبکہ اولڈ ایج بینیفٹ کے تحت بھی مراعات حاصل ہیں ۔حکومت پنجاب نے لیبر ویلفےئر بورڈ کے زیراہتمام محنت کشوں کے بچوں کی اعلیٰ تعلیم کے لئے وظائف کی فراہمی کے ساتھ ساتھ ان کی بچیوں کی شادی کے لئے جہیز فنڈاورحادثانی موت کی صورت میں مالی امداد فراہم کی جارہی ہے۔وزیراعلیٰ پنجاب محمدشہبازشریف نے بھٹہ مزدوروں کی بحالی اور جبری مشقت کے خاتمے کے لئے وسیع تر انسدادی وتادیبی اقدامات کئے ہیں۔بھٹہ مزدوروں کے بچوں کی تعلیم کے لئے سکول یونیفارم،کتابیں،بیگز اورماہانہ وظیفہ بھی فراہم کیاجارہا ہے ۔جبری مشقت کی روک تھام کیلئے ضلعی سطح پر مانیٹرنگ ٹیمیں کام کرہی ہیں اور انتظامی افسران کی جانب سے بھٹہ خشت پر چھاپے مارنے کاسلسلہ جاری ہے تاکہ کسی جگہ کوئی کم عمر بچہ مزدوری کرتا ہوا نظر نہ آئے۔حکومت پنجاب کی طرف سے لیبرکالونیزکاقیام،سوشل سیکورٹی ہسپتال ،ڈسپنسریاں اور لیبر ویلفےئر سکولوں کا قیام اس امر کا غماز ہے کہ حکومت محنت کشوں کے حقوق سے غافل نہیں بلکہ ان کی فلاح وبہبود کے لئے ہمہ تن کوشاں ہے اس سلسلے میں لیبر ڈیپارٹمنٹ کی طرف سے ان کے حقوق کی نگرانی کی جارہی ہے۔پاکستان انٹرنیشنل لیبر آرگنائزیشن کاممبر ہے اورچارٹرز کے مطابق محنت کشوں کے حقوق کی پاسداری پرعملدرآمد کیا جارہا ہے ۔یکم مئی پر لیبر ڈے کے موقع پر مزدور کی عظمت کو اجاگر کرنے کے ساتھ ساتھ اس عزم کی تجدیدکی جاتی ہے کہ محنت کشوں کے مسائل حل کرنے اور ان کے حقوق کے تحفظ کے سلسلے میں کوئی دقیقہ فروگزاشت نہیں کیا جائے گا کیونکہ قومی ترقی میں ان کا کردارمسلمہ حقیقت کا آئینہ دار ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں