18

فیصل آباد ۔ارکان پنجاب اسمبلی چوہدری لطیف نذر‘ فردوس رائے کاچائلڈ رائٹس موومنٹ کے زیر اہتمام بننے والے چلڈرن کلب کے ممبران کے ساتھ گروپ فوٹو ۔چیئرمین سٹی کونسل ریاض کموکا ‘ خالد حیات کموکا ‘ پرنسپل سکول سعدیہ ثاقب ‘ طاہر ہ امین ‘ عذرا شاھین ‘ سعدیہ سعید ‘لائل پور ڈویلپمنٹ کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر طاہر اقبال بھی موجود ہیں

فیصل آباد ( فراز نیوز،مانیٹرنگ ڈیسک) ایم پی اے چوہدری لطیف نذر نے کہا ہے کہ قوم کے مستقبل کو روشن رکھنے کے لئے ضروری ہے کہ ہم اپنے مستقبل کے معماروں کو زیور تعلیم سے آراستہ کرنے کے لئے اپنے تمام ممکنہ وسائل کو بروئے کار لائیں ۔ تعلیم ہی واحد ذریعہ ہے جس سے چائلڈ لیبر کا خاتمہ ہو سکتا ہے۔یہ بات انہوں نے چائلڈ رائٹس موومنٹ کے زیر اہتمام بننے والے چلڈرن کلب کے ممبران سے اپنے دفتر پی ایچ اے میں ملاقات کے دوران گفتگو کرتے ہوئے کہی ۔اس ملاقات کا مقصد چائلڈ لیبر ‘ گھریلو بچہ مزدوری ‘ بچوں پر تشدد ‘ کم عمری کی شادی جیسے مسائل کو اجاگر کرکے انہیں حل کرانا ہے ۔ اس موقع پر ایم پی اے محترمہ فردوس رائے ‘چیئرمین سٹی کونسل ریاض کموکا ‘ خالد حیات کموکا ‘ پرنسپل پولیس پبلک ویلیفئر سکول سعدیہ ثاقب ‘ طاہر ہ امین ‘ عذرا شاھین ‘ سعدیہ سعید ‘لائل پور ڈویلپمنٹ کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر طاہر اقبال سمیت 30 ممبران نے شرکت کی ۔ایم پی اے لطیف نذر نے کہا کہ پنجاب اسمبلی میں بچوں کے حقوق کے تحفظ کو یقینی بنانے کے لئے اسمبلی میں بل پر سختی سے عملدرآمد کرانے کے لئے قانون سازی کرائیں گے اور وزیر اعلی پنجاب سمیت کابینہ کے سامنے تجاویر بھی رکھیں گے تاکہ نچلی سطح سے بچوں کے حقوق کو یقینی بنایا جا سکے ۔ انہوں نے کہا کہ بچوں کے حقوق کا تحفظ قوموں کے روشن مستقبل کی ضمانت ہے‘ بچوں کومحفوظ حال اور مستقبل دینا ہم سب کی مشترکہ ذمہ داری ہے کیونکہ بچے کسی بھی قوم کا قیمتی سرمایہ ہیں لہذا ہرسطح پر نونہالوں کے حقوق کے تحفظ کویقینی بنانے میں سنجیدہ اقدامات کئے جائیں گے۔انہوں نے کہا کہ بچوں کی صحیح خطوط پر تعلیم وتربیت اور کردارسازی کرکے قوم کے معماروں میں خود اعتمادی پیدا کی جاسکتی ہے ۔ایم پی اے فردوس رائے نے کہا کہ سرکاری سکولوں کی حالت بہتر بنانے کے لئے حکومت نے اپنی توجہ مذکور کر رکھی ہے ۔ یہ ہماری بد قسمتی ہے کہ اس وقت وطن عزیز میں اڑھائی کروڑ بچے سکولوں سے باہر ہیں۔ ان بچوں کو سکولوں تک لانے کے لئے خصوصی اقدامات کئے جائیں گے۔ بچوں کو تعلیم کی طرف گامزن کرکے ہی بچوں کو چائلڈ لیبر جیسے سنگین مسئلہ سے دور رکھا جا سکتا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ اسمبلی میں چائلڈ لیبر کے خاتمے سمیت لڑکے اور لڑکی شادی 18 سال تک کی عمر کے لئے قانون سازی پر سختی سے عملدرآمد کرایا جائے گا ۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں