15

ادویات سے بنی ڈرنکس کو انرجی ڈرنکس کہنے اور لکھنے پر پابندی کے قانون پر عمل درآمدشروع فیصل آبادڈویژن میں کریک ڈاؤن، 55 مقامات کی چیکنگ،کل 66,717بوتلیں اور کین ضائع ممنوعہ گٹکا کی فروخت،شیشہ فلیور کے استعمال پرپان شاپ سیل پراڈکٹ پر لفظ انرجی نہ لکھنے اور لیبل پر واضح طور پر” ہائیلی کیفینیٹڈ ڈرنک” تحریر نہ کرنے پر بھی کارروائیاں انرجی ڈرنکس کمپنیوں کو قانون پر عمل درآمد کے لیے آٹھ ماہ کا بزنس ایڈجسٹمنٹ ٹائم دیا گیا تھا۔ڈی جی فوڈ اتھارٹی انرجی ڈرنکس میں کیفین کی زیادہ مقدار بلڈپریشر، امراض قلب سمیت متعدد موذی امراض کا باعث بنتی ہے۔کیپٹن (ر) محمد عثمان


فیصل آباد(فراز نیوز،مانیٹرنگ ڈیسک)پنجاب فوڈ اتھارٹی کی جانب سے نئے سال کے آغازسے ہی ادویات سے بنی ڈرنکس کو انرجی ڈرنکس کہنے اور لکھنے پر پابندی کے قانون پر عمل درآمد کا سخت آغازکر دیا گیا ہے۔فوڈ سیفٹی ٹیموں نے 55مقامات کی چیکنگ کے دوران 66,717بوتلوں میں موجود 17,900لیٹرز ممنوعہ ڈرنکس تلف کر دیں۔یاد رہے کہ پنجاب فود اتھارٹی کی جانب سے دیا گیا آٹھ ماہ کا بزنس ایڈجسٹمنٹ ٹائم 31 دسمبر 2018 کو ختم ہو گیا تھا۔ممنوعہ گٹکا کی فروخت پرپان شاپ کو سر بمہر جبکہ متعدد فوڈ پوائنٹس کو 230,000کے جرمانے عائد کیے گئے۔ تفصیلات کے مطابق صوبہ بھر میں ادویات سے بنی ڈرنکس کو انرجی ڈرنکس کہنے اور لکھنے پر پابندی کے قانون پر عمل درآمد کا سخت آغازکر دیا گیاہے۔فیصل آباد ڈویژن بھر میں 55مقامات کی چیکنگ کے دوران 66,717کین اور بو تلوں میں موجود17,900لیٹرز ممنوعہ ڈرنکس تلف کر دیں۔ ڈرنک کارنرز پر بوتلوں میں 200 ppmکی بجائے 450 ppmکیفین لیول پر فروخت کی جا رہی تھیں۔ پنجاب فوڈ اتھارٹی کے قانون کے مطابق ادویاتی ڈرنکس میں زیادہ سے زیادہ 200ppm کیفین کا استعمال انسانی صحت کیلئے خطرناک نہیں ہے ۔ یاد رہے اپریل 2018 میں ادویاتی اجزاء والی ڈرنکس کو انرجی ڈرنکس کہنے پر بھی پابندی عائد کی گئی تھی۔ آٹھ ماہ کا بزنس ایڈجسٹمنٹ ٹائم 31 دسمبر 2018 کو ختم ہو گیا تھا۔ڈی جی فوڈ اتھارٹی کے مطابق پراڈکٹ پر لفظ انرجی نہ لکھنے اور لیبل پر واضح طور پر” ہائیلی کیفینیٹڈ ڈرنک” تحریر نہ کرنے پر بھی کاروائیاں کی گئیں۔علاوہ ازیں فیصل آبادمیں چیکنگ کے دوران ممنوعہ گٹکا اور شیشہ فلیورز کی فروخت پر بمبینو پان شاپ کو سر بمہر کیا گیا۔کیپٹن (ر) محمد عثمان کا مزید کہنا تھا کہ انرجی ڈرنکس میں کیفین کی زیادہ مقدار بلڈپریشر، امراض قلب سمیت متعدد موذی امراض کا باعث بنتی ہے۔صوبہ بھر میں چیکنگ کے دوران زیادہ تر مقامات پر ممنوعہ ڈرنکس کا نہ پایا جانا مثبت پیش رفت ہے۔عوام کو صحت مند خوراک کی فراہمی کے ساتھ ساتھ درست معلومات فراہم کرنا بھی ہماری ذمہ داری ہے۔نقصان دہ اجزاء والی اشیاء دھوکہ دہی سے فروخت کر نے کی ہرگز اجازت نہیں دی جائے گی۔انہوں نے عوام سے گزارش کی ہے کہ وہ اپنے ارد گردہو نیوالی کسی بھی خلاف ورزی کی صورت میں پنجاب فوڈ اتھارٹی ٹال فری نمبر 080080500یا فیس بک پیج پر آگاہ کریں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں