114

معاشرتی برائیوں کی جڑ (اداروں کی غیر ذمہ داریاں ) تحریر میاں خالد محمود فراز

اسلامی جمہویہ پاکستان جو کہ ہم نے بہت قربانیوں کے بعد حاصل کیا اس کے حاصل کرنے کی آخر کیا ایسی وجہ تھی زندگی تو ہم ہندؤں کے ساتھ بھی گزار رہے تھے ،انگریزوں کے ساتھ بھی گزار رہے تھے بہت سے لوگ اپنی جائیدادیں صرف اس لیئے چھوڑ کر آئے کہ وہ اپنی زندگی اسلام کے مطابق گزارنا چاہتے تھے ،اس وقت جو نا انصافیاں ہوتی تھی وہ اس کو دیکھ کر برداشت نہیں کر سکتے تھے ان کا خون کھولتا تھا کیونکہ اس قسم کی برائیاں وہ نہیں دیکھ سکتے تھے، اس لیے مسلمانوں نے ایک علیحدہ ملک کا مطالبہ کیا جہاں سب ان کی مرضی کے مطابق ہو وہ اپنے بچوں کی تعلیم و تربیت اچھی کر سکیں پرامن زندگی گزار سکیں ۔لیکن آج اگر پاکستان کا بغور جائزہ لیا جائے تو ان میں سے کچھ بھی دکھائی نہیں دیتا۔ ایک شخص منشیات فروش ہے سر عام نشہ فروخت کرتا ہے لیکن 10 لوگ اس کو مل کر نہیں روک سکتے آخر کیوں کیا وہ اتنا ہی طاقتور ہے کہ 10 لوگ ایک بندے کا مقابلہ نہیں کر سکتے دراصل وجہ یہ ہے کہ اس کی پشت پنائی بہت طاقتور لوگ کر رہے ہیں ۔ جس کی وجہ سے وہ سرعام یہ کام کر رہا ہے بے شمار برائیاں ہیں جو کہ ہمیں روزمرہ کی زندگی میں سر عام ہوتی نظر آتی ہے لیکن کوئی پوچھنے والا نہیں اگر کوئی کوشش بھی کرتا ہے تو بااثرافراداس کی آواز کو وہیں دبا دیتے ہیں،جس کا پاکستانی عوام کو بھاری خمیازہ بھگتنا پڑ رہا ہے آج کل لوگ اپنے تعلقات بناتے ہی اس لیے ہیں کہ وہ کوئی ایسا کام کرسکیں جس میں محنت کم پیسے زیادہ ہو ں، چاہے وہ کسی کی زندگی ہی برباد کرنے کا کام کیوں نہ ہو،آج کل آپ نے دیکھا ہو گا کہ میڈیکل سٹورز والے جعلی ادویات سیل کر کے بہت سے لوگوں کی موت کا سبب بن رہے ہیں اگر سروے کیا جائے تو پتہ چلے گاکہ اکثر لوگ ان جعلی دوائیوں کے استعمال سے موت کی لپٹ میں چلے جاتے ہیں ان کو کوئی پوچھنے والا نہیں اگر کوئی ایکشن بھی لیتا ہے تو اس کو کاروائی سے روک دیا جاتا ہے دوسرے نمبر پر کوئی میڈیکل سٹور ایسا نہیں جہاں نشہ آور دوائیاں سر عام فروخت نہیں ہوتیں بہت سی میڈیسن ایسی ہیں جن میں نشہ وافر مقدار میں پایا جاتا ہے اور نشئی حضرات کو وہ نشہ خریدنے میں ذرا سی بھی مشکل کا سامنا درپیش نہیں آتا اور وہ آسانی سے نشہ خرید کر خود بھی کر رہے ہیں اور ہماری نوجوان نسل جو کہ ہمارا قیمتی اثاثہ ہیں مستقبل کے ڈاکٹر،انجینئر ،وکیل،ٹیچر،ہیں ان کی رگوں میں یہ زہر سرعام بھرا جارہاہے ان میڈیکل سٹورز پر سر عام فروخت ہونے والی نشہ آوار ادویات کی وجہ سے موجودہ دور کے نوجوان بری طرح سے ان ادویات کے عادی ہوتے جا رہے ہیں اور اپنی زندگیوں کو تباہی کی دلدل میں دھکیل رہے ہیں ،اور میڈیکل سٹورز والے اان کی تباہی کی بڑی وجہ بن رہے ہیں اور آئے روز کہیں نہ کہیں ان نشہ کے عادی افراد کی لاوارث لاشیں ملتی ہیں مگر ادارے اپنا کردار ادا کرنے کی بجائے خاموش تماشائی کا کردار ادا کر رہے ہیں اگر نشہ آور ادویات کی سر عام فروخت پر پابندی نہ لگائی گئی تو ایک دن پاکستان میں نشہ کرنے والے نوجوانوں کی شرح سب ممالک سے زیادہ ہو گی اس کی روک تھام ایک نہائت ضروری عمل ہے تاکہ ہمارا قیمتی سرمایہ ہماری نوجوان نسل تباہی سے بچ سکے،اسی طرح آج کل پاکستان کے بیشتر علاقوں میں گیس کی لوڈشیڈنگ کی وجہ سے ایل، پی،جی گیس کی ری فلنگ اتنی عام ہوگئی ہے کہ آئے دن کوئی نہ کوئی واقعہ رونما ہوتا ہے ،کبھی کسی گھر میں سلنڈر پھٹنے سے جانیں ضائع ہو جاتی ہیں کبھی کسی ری فلنگ کی دوکان پر سلنڈر پھٹنے سے جانیں ضائع ہوجاتی ہیں اور کئی گھروں کے سربراہان اور کئی گھروں کے اکلوتے چراغ گل ہو چکے ہیں۔ کیا اس کی ذمہ داری حکومت کی نہیں ایک تو گیس کی لوڈشیڈنگ ختم کرے دوسرا گیس ری فلنگ پر پابندی لگائے تاکہ حادثات سے بچا جا سکے، اس طرح آج کل صحافت جہاں ایک مقدس پیشہ سمجھا جاتا تھا اس میں ایسے لوگ گھس آئے ہیں جنہوں نے صحافت کا جنازہ نکالنے کی قسم کھا رکھی ہے صحافت کی آڑ میں ناجائز کام سرانجام دے رہے ہیں ان میں نہ تو کوئی کسی اخبار کا مالک ہے اور نہ ہی کوئی کسی چینل کا مالک ہے بلکہ ایسے ضمیر فروش شامل ہیں جو کسی بھی اخبار یا چینل کا کارڈ بنوا کر ایک تو لوگوں کو بلیک میل کرتے ہیں دوسرا صحافت کی آڑ میں منشیات فروشی،جسم فروشی ،جوا ء خانے ،جعلسازی جیسے کام کرتے ہیں کوئی ان کو روکنے والا نہیں جن اداروں کو ان کی کالی کرتوں کا علم ہو جاتا ہے وہ ان کے خلاف کاروائی عمل میں لانے کے بجائے ان کو اپنے ادارے سے نکال دیتے ہیں وہ لوگ کوئی اور ادارہ جوائن کر لیتے ہیں اگر ان کے خلاف قانونی کاروائی کی جائے اور ایسے لوگوں کو نااہل قرار دیا جائے اور سخت سزا دلوائی جائے تو اس طرح کے لوگ کوئی بھی کام کرنے سے پہلے محتاط ہو جائیں گے کیا ادروں کی ذمہ داری نہیں بنتی کہ اپنے نمائندگان کی خبر رکھیں کہ وہ کیا کر رہے ہیں کیا نہیں کر رہے تاکہ اس طرح کی برائیوں سے بچا جاسکے۔ میری نظر میں اگر تما م ادارے اپنی ذمہ داریاں ایمانداری سے نبھائیں تو کوئی ایسی وجہ نہیں کہ ان برائیوں سے چھٹکارا نہ پایا جا سکے ۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں