142

پنجاب بجٹ اور شعبہ صحت تحریر ۔ سبحان علی

وزیراعلیٰ پنجاب محمد شہبازشریف کی قیادت میں حکومت پنجاب مختلف سماجی شعبوں کو پائیدار بنیادوں پر استوار کرنے کے لئے انقلابی اقدامات کر رہی ہے تاکہ عوامی فلاح وبہبود کے لئے ان شعبوں کی کارکردگی کے معیار میں مزید اضافہ کرکے انہیں مستقبل کے چیلنجز کا مقابلہ کرنے کے قابل بنایا جاسکے ۔ان اصلاحاتی اقدامات کے تحت عوامی بہبود سے متعلقہ محکموں کو ٹھوس بنیادوں پر اس قابل بنایا جارہا ہے کہ آئندہ نسلیں بھی ترقی کے ثمرات سے مستفید ہوسکیں۔اس ضمن میں صوبہ پنجاب کا رواں مالی سال کا بجٹ تعمیر وترقی کے لحاظ سے بڑی اہمیت کا حامل ہے کیونکہ مختلف شعبوں میں عوامی بہبود اور علاقائی ترقی کے لئے مکمل کئے گئے بڑے بڑے منصوبوں میں مزید وسعت لانے کے علاوہ نئے میگا پراجیکٹس کے لئے بھاری فنڈز مختص کئے گئے ہیں ۔دیگر شعبوں کے ساتھ ساتھ شعبہ صحت بھی حکومت پنجاب کی اولین ترجیحات میں شامل ہے کیونکہ صوبہ بھر میں مریضوں کو علاج معالجہ کی جدید اور معیاری سہولتیں ان کے گھروں کے قریب فراہم کرنے کے بنیادی مقصد کو پورا کرنا حکومت پنجاب کا اہم مشن ہے ۔وزیراعلیٰ پنجاب محمدشہبازشریف نے شعبہ صحت کی ترقی واستحکام کے لئے ہمہ جہت نوعیت کے بے شمار اقدامات کئے ہیں اور وہ خود ان پر بھرپور انداز میں عملدرآمد کرانے کیلئے ہمہ تن مصروف عمل رہتے ہیں جس کی بدولت شعبہ صحت میں بہتری کے لئے اگرچہ اچھے نتائج حاصل ہورہے ہیں لیکن طبی سہولتوں میں وسعت اور معیار میں اضافہ کے لئے مزید اقدامات کرنے کی گنجائش موجود ہے۔حکومت پنجاب کی طرف سے شعبہ صحت کی ترقی واستحکام پر حتی الوسع وسائل بروئے کار لائے جارہے ہیں ۔اس سلسلے میں نئے جنرل ہسپتالوں کے قیام،موجودہ ہسپتالوں کی اپ گریڈیشن اور گردے،جگر،کینسرودیگر مخصوص بیماریوں کے سپیشلائزڈ ہسپتالوں کی ترویج پر بھی خصوصی توجہ مرکوز ہے اس سلسلے میں پاکستان کڈنی اینڈ لیور انسٹیٹیوٹ اینڈ ریسرچ سنٹر کا قیام اہم کڑی ہے ۔اس منصوبے کا پہلا مرحلہ 19،ارب روپے کی لاگت سے دسمبر2017ء میں مکمل ہونے جارہا ہے جس میں ابتدائی طور پر 110بستروں کی گنجائش ہے جبکہ مارچ 2018میں اسے 320بستروں تک توسیع دے دی جائے گی۔حکومت پنجاب نے رواں مالی سال میں شعبہ صحت میں نئے منصوبوں کے اجراء اور موجودہ طبی سہولتوں میں وسعت لانے اور جدیدبنانے کے لئے مجموعی طور پر 263،ارب 22کروڑ روپے مختص کئے ہیں جو کہ بجٹ کا ایک خاطر خواہ حصہ ہے۔صوبہ کے ڈسٹرکٹ اور تحصیل ہیڈ کوارٹرز ہسپتالوں کی حالت سنوارنے اور ان میں علاج معالجہ کی جدید طبی سہولیات عام آدمی تک پہنچانے کیلئے 20،ارب روپے کی خطیر رقم خرچ کی جائے گی جن میں انفراسٹرکچر کو بہتر بنانے کے علاوہ جدید طبی مشینوں کی فراہمی‘ اضافی ڈاکٹرز اور نرسز کی تعیناتی کے ساتھ ساتھ صفائی اور سیکورٹی کے نظام کو آؤٹ سورس کرنا بھی شامل ہے۔رواں مالی سال کے بجٹ کے مطابق پرائمری ہیلتھ کےئر کے شعبے میں وزیراعلیٰ ہیلتھ ریفارمز روڈ میپ پروگرام کے تحت ہمہ نوعیت کے اقدامات کئے جائیں گے جن میں ایک ارب روپے کی ابتدائی رقم سے جنوبی پنجاب کے دور دراز علاقوں میں مزید ایک سو موبائل ہیلتھ یونٹس کی فراہمی،ہیپاٹائٹس کنٹرول پروگرام کے دائرہ کار کو 80ہسپتالوں سے بڑھا کر تمام ڈسٹرکٹ وتحصیل اور ٹیچنگ ہسپتالوں تک توسیع اور صوبے کی پانچوں ڈرگ ٹیسٹنگ لیبارٹریز کے انفراسٹریکچر،مشینری اور سٹاف کے لحاظ سے عالمی معیار کے مطابق تشکیل نو شامل ہے ۔صوبہ کے تمام سرکاری ہسپتالوں اور مراکز صحت کو10،ارب روپے کی معیاری ادویات مہیا کی جائیں گی جو پنجاب کی تاریخ میں پہلی مرتبہ صرف بین الاقوامی اور اعلیٰ معیار کی بہترین کمپنیوں سے خریدی جارہی ہیں۔حکومت پنجاب نے ہیپاٹائٹس کی بیماری پر قابو پانے اور علاج معالجہ کے لئے خصوصی پروگرام تشکیل دیا ہے اس سلسلے میں رواں مالی سال کے دوران ہیپاٹائٹس کے مریضوں کے لئے ادویات کی فراہم کرنے کی مد میں ساڑھے تین ارب روپے کے فنڈز مختص کئے ہیں اس کے ساتھ ساتھ ٹیچنگ ہسپتالوں میں ہیپاٹائٹس کلینکس کا قیام بھی عمل میں لایا جائے گا ۔ میڈیکل ایجوکیشن کے فروغ کے لئے رواں مالی سال میں ملتان ‘ راولپنڈی اور فیصل آباد میں میڈیکل یونیورسٹیز کا قیام عمل میں لایا گیا ہے جن کی بدولت طب کی تعلیم و تحقیق کی سہولتوں میں وسعت پیدا ہو گی ۔اسی طرح بھکر اور اٹک میں دو نئے میڈیکل کالجز قائم کئے جائیں گے جبکہ بہاولنگر کے میڈیکل کالج کے منصوبے پر کام تیزی سے جاری ہے ۔دیہی علاقوں میں عورتوں میں زچگی کی پیچیدگی کے مسائل بھی درپیش ہیں جن کے حل کے لئے حکومت پنجاب نے دیہات میں بسنے والی حاملہ خواتین کے لئے نزدیکی مراکز صحت میں24 گھنٹے ڈلیوری کی سہولت فراہم کی گئی ہے جبکہ لیڈی ہیلتھ پروگرام کے تحت رورل ہیلتھ ایمبولینس سروس کا بھی آغاز کر دیا گیا جس کی بدولت محفوظ ڈلیوری کے لئے حاملہ خواتین کو مراکز صحت تک فوری منتقلی کے لئے آسانی پیدا ہوئی ہے ۔ حکومت پنجاب نے 24 گھنٹے ڈلیوری سہولت فراہم کرنے والے بنیادی مراکز صحت کی تعداد میں اضافہ کرنے کے ساتھ ساتھ ان تمام بنیادی مراکز صحت اور رورل ہیلتھ سنٹرز پر الٹرا ساؤنڈ کی سہولت بھی فراہم کی جارہی ہے اس مقصد کے لئے رواں مالی سال کے بجٹ میں 70 کروڑ روپے کی رقم مختص کی گئی ہے ۔ پنجاب میں بنیادی مراکز صحت اور رورل ہیلتھ سنٹرز کے انتظام و انصرام کو بہتر بنانے کے لئے پنجاب ہیلتھ فسیلٹیز مینجمنٹ کمیٹی کا قیام عمل میں آچکا ہے اس اقدام سے بنیادی اور نچلی سطح پر صحت کی سہولتوں میں وسعت اور اس شعبہ میں حکومتی اقدامات پر بھر پور عملدرآمد کی راہ ہموار ہو گی ۔ اسی طرح پنجاب کے تمام اضلاع میں ڈسٹرکٹ ہیلتھ اتھارٹیز بھی کام کر رہی ہے ۔ یہ اتھارٹیز ضلعی سطح پر موجود شعبہ صحت کی تمام سہولتوں اور ہسپتالوں میں اعلی نظم و نسق کی ذمہ دار ہو گی ۔ حکومت پنجاب نے پرائمری و سکینڈری ہیلتھ کیئر کا بجٹ اس سال دو گنا کرکے 112 ارب روپے کر دیا ہے جبکہ ضلعی ہیلتھ اتھارٹیز کے لئے اس بجٹ میں 73 ارب 50 کروڑ روپے کی رقم مختص کی گئی ہے ۔ وزیر اعلی پنجاب محمد شہباز شریف صوبہ میں صحت کی سہولیات عام مریضوں تک پہنچانے کے لئے ہمیشہ فکر مند رہتے ہیں اس مقصد کے لئے دستیاب وسائل کا بڑا حصہ شعبہ صحت پر خرچ کیا جارہا ہے ۔ ہسپتالوں میں اضافی سی ٹی سکین مشینوں سمیت دیگر طبی مشینری کی فراہمی اور ہسپتالوں کی اپ گریڈیشن کے علاوہ علاج معالجہ کے لئے طبی و تشخیصی وسائل میں اضافہ کیا جارہا ہے ۔ ان اقدامات پر عملدرآمد کا جائزہ لینے کے لئے وزیر اعلی پنجاب محمد شہباز شریف خود بھی صوبہ کے مختلف ہسپتالوں کا اچانک معائنہ کرتے ہیں جو ان کی صحت کی سہولتوں کے ثمرات عام مریضوں تک پہنچانے کے عزم کی واضح دلیل ہے ۔صوبائی ‘ ڈویژنل و ضلعی انتظامیہ کے افسران بھی سرکاری ہسپتالوں کی مسلسل مانیٹرنگ کے لئے سرگرم عمل رہتے ہیں تاکہ علاج معالجہ کی سہولیات کی فراہمی میں کسی بھی لمحہ تعطل نہ آئے اور طبی و تشخیصی مشینری بھی فنکشنل رہے ۔وزیراعلی پنجاب نے صحت کے شعبہ میں اقدامات پر بہتر عملدرآمد کے لئے انڈکیٹرز بھی مقرر کر رکھے ہیں تاکہ نہ صرف کارکردگی کا معیار بہتر ہو بلکہ کسی جگہ خامیوں ‘ کوتاہیوں اور کمزوریوں کی بھی نشاندہی ہو سکے ۔ اس مقصد کے لئے ہر ضلع میں ڈسٹرکٹ ہیلتھ ریویو کمیٹیز ہر ماہ انڈکیٹرز پر عملدرآمد کا جائزہ لے رہی ہیں ۔ ان اقدامات سے مطلوبہ اہداف حاصل کرنے میں مدد مل رہی ہے ۔ مزید برآں نائب قاصد اور خاکروب سے لے کر سپیشلسٹ ڈاکٹر تک بنیادی مراکز صحت ‘ رورل ہیلتھ سنٹر اور تحصیل و ڈسٹرکٹ ہیڈ کوارٹرز ہسپتال میں ڈاکٹرز پیرا میڈیکل سٹاف اور دیگر انتظامی سٹاف کے ہر ماہ سکور کا جائزہ لے کر طے شدہ معیار کے مطابق بہترین کارکردگی کے حامل ڈاکٹر‘ نرس ‘ لیڈی ہیلتھ ورکر ‘ ڈسپنسر ‘ خاکروب ‘ نائب قاصد ‘ اور دیگر سٹاف ممبران کا انتخاب کیا جاتاہے جنہیں تحصیل ‘ ضلع اور ڈویژن اور صوبائی سطح پر مقابلوں میں منتخب ہونے پر کیش ایوارڈز سے نوازا جارہا ہے جس سے محکمہ صحت میں خدمات انجام دینے والوں کی بھر پور حوصلہ افزائی ہورہی ہے یہ تمام اقدامات اس انقلابی سوچ اور عمدہ ویژن کی عکاسی کرتے ہیں کہ عام آدمی کو علاج معالجہ کی بہترین سہولیات ان کے دہلیز پر میسر آئیں اور یہی وزیر اعلی پنجاب محمد شہباز شریف کا مشن ہے جسکی تکمیل کے لئے تیزی سے قدم آگے بڑھ رہے ہیں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں