85

قائمہ کمیٹی برائے ریوینو اینڈ ریلیف نے پنجاب لینڈریونیو ایکٹ 1967ء کو پنجاب لینڈریکارڈز اتھارٹی ایکٹ 2017کے ساتھ ہم آہنگ کرنے کیلئے ایک بل کا مسودہ تیار

فیصل آباد(فراز نیوز مانیٹرنگ ڈیسک) کیا ہے جس کے ذریعے کچھ ترامیم تجویز کی گئی ہیں جن کا مقصد پنجاب لینڈریونیو ایکٹ 1967ء کو پنجاب لینڈریکارڈز اتھارٹی ایکٹ 2017کے ساتھ ہم آہنگ کرنا ہے۔ نئی ترامیم کے ذریعے نہ صرف بہت سی قانونی پیچیدگیوں کا خاتمہ ہوگابلکہ خدمات کی فراہمی کومزید فعال بنانے میں بھی مدد ملے گی۔ پنجاب لینڈ ریکارڈزا تھارٹی اور اراضی ریکارڈسنٹرزکو بند کرنے یا سروس سنٹر آفیشل کی پوسٹ کو ختم کرنے کی خبروں میں قطعی طور پر کوئی صداقت نہیں ہے۔ پنجاب لینڈ ریکارڈزا تھارٹی اراضی ریکارڈ کی جدید خطوط پر با سہولت اور شفاف خدمات کی فراہمی میں ایک نئے باب کی حیثیت رکھتا ہے جس کو ورلڈ بنک کی جانب سے عالمی سطح پر نہ صرف سراہا گیا بلکہ باقی تمام ممالک کے لیے قابل تقلید بھی قرار دیا جا چکا ہے۔نئے نظام کی بدولت پنجاب سے پٹورار کلچر کا خاتمہ ہوچکا ہے۔پنجاب بھر کے عوام نئے نظام کے تحت خدمات کی فراہمی سے خوش اور مطمئن نظر آتے ہیں۔ پنجاب لینڈ ریکارڈزا تھارٹی حکومت پنجاب کا ایک ادارہ ہے جو کہ پنجاب بھر میں 5.5کروڑ سے زائد مالکان اراضی کو انتقال اور فرد کی خدمات فراہم کر رہا ہے۔ اراضی ریکارڈ سنٹر سے اراضی کی کمپیوٹرائزڈ خدمات کی فراہمی کو قانونی تحفظ دینے کے لیے پنجاب لینڈریونیو ایکٹ 1967ء اور ریونیو رولز 1968ء کے تحت کچھ ترامیم کیں جو 2012ء میں پنجاب اسمبلی سے منظوری کے بعد قانون کا مستقل حصہ بن گئیں۔ان ترامیم کی رو سے پرانے نظام میں پٹواری کے ذریعے سرانجام دیے جانے والے کام نئے نظام کے تحت اراضی ریکارڈ سنٹرز میں موجود سروس سنٹر آفیشلز یہ فرائض انجام دے رہے ہیں۔کمپیوٹرائزڈ نظام کے تحت پنجاب بھر میں موجوداراضی ریکارڈ سنٹر سے خدمات کی فراہمی کے تسلسل کو برقرار رکھنے کے لیے ایک آرڈیننس کے تحت جنوری 2017میں پنجاب لینڈریکارڈزاتھارٹی کا قیا م عمل میں لایا گیا بعد ازاں پنجاب اسمبلی سے پنجاب لینڈریکارڈز اتھارٹی ایکٹ 2017ء پاس کروایا گیا۔ جس کے تحت پنجاب لینڈ ریکارڈز اتھارٹی تحصیل کی سطح پر قائم 151اراضی ریکارڈسنٹرز سے بلا تعطل خدمات کی شفاف اور تیز ترین فراہمی کو یقینی بنا رہی ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں