118

ہمارے رسم ورواج رشتوں میں کمزوری کا سبب تحریر ۔ مہر ساجد بلال

ہم زمانہ جاہلیت سے باہر نکلنے کی کوشش ہی نہیں کرتے اور ایسی چیزوں اور کامو ں کو ترجیح دیتے ہیں جن کا حقیقت سے دور دور تک تعلق نہیں ہوتاہم اپنے ہی غیرشرعی بنائے ہوئے رسم و رواج کے ساتھ اپنے رشتوں کا خون کر رہے ہیں اور ان رسم و رواج کو ہم نے اپنی زندگیوں میں ایسے شامل کیا ہوا ہے جیسے وہ ہمارے دین اورشریر کا حصہ ہوں، انہیں غیر شرعی رسم و رواج نے بہنوں سے بھائی اور پھر ماں باپ سے بیٹے حتیٰ کہ انسان سے انسانیت ہی چھین لی ہے معاشرے میں محبت واعتباربھائی چارے جیسی نعمت سے ہمیں محروم کرکے رکھ دیا ہے میں یہاں ایک دومثالوں سے اپنے دوستوں کے سامنے اس مسائل کی بنیاد کو اجاگر کرنے کوشش کروں گاایک غریب انسان جس کو دو وقت کا کھانا بھی نصیب نہیں ہوتا ہے وہ انسان اپنی بیٹی،اپنی بہن کی بس لیے شادی نہیں کرپاتا کہ اس کے پاس ان رسم و رواجوں کو پورا کرنے کے اخراجات ہی نہیں ہوتے اس کے پاس دنیاوی رسم و رواج کے لیے دولت ہی نہیں ہوتی اس لیے تو اس کی بہن ،بیٹی کے سر کے بال سفید ہوجاتے ہیں اور وہ شادی کے بندھن میں بندھے بغیر ہی اس دنیا کے ظلم و ستم کا شکار ہوتی ہوئی اپنے دل میں موجود خواہشات کو دفن کرتی ہوئی اس فانی دنیا سے رخصت ہو جاتی ہے میرے پیارے دوستو آپ کے ارد گر ہی ایسے بھی بہت سے واقعات رونما ہوئے ہوں گے کہ غریب گھرکی بارات اس لیے واپس چلی جاتی ہے کہ اس کے پاس حق مہر میں لاکھوں دینے کے لیے روپے اور غیر شرعی شرائط تسلیم کرنے کے لیے ہمت و طاقت ہی نہیں ہوتی ہم ایسی نیچ رسم و رواج کے لیے اپنے رشتوں کا خون تو کر دیتے ہیں لیکن ان کوچھوڑنے کے لیے تیا ر ہی نہیں ہیں میرے پیارے دوستومجھے ایک ایسی شادی دیکھنا نصیب ہوئی جس شادی میں ان رسم و رواج اور شرائط پر ایسے عمل کیا جا رہا تھا جیسے دین کا حصہ ہوں ہم پر فرض ہوں جس میں حق مہر، جوتا چھپائی ،دودھ پلائی وغیرہ وغیرہ شامل ہیں ہم بے بنیاد رسم ورواج کے لباس کو اوڑھے یہ کیوں بھول جاتے ہیں کہ جس شخص کو ہم اپنی بیٹی جیسی پیاری نعمت اپنے جسم کا دل ہی نکال کر دے رہے ہیں اس کے سامنے ایسی رسمیں کیا اہمیت رکھتی ہیں اور جو لوگ دلہن کو گھر لا کر پہلے دن رسم و رواج کی آگ میں جلاتے ہیں وہ کیوں بھول جاتے ہیں کہ جس کو ہم بیٹی بنا کر گھر لائے ہیں یہ تو ہمارے گھر کا چراغ ہے عزت ہے ہم اس سے ایسا سلوک کیوں کر رہے ہیںیہی رسمیں رشتوں کو کمزور کرتیں ہیں کیونکہ رسمیں انسان کو نیچا دکھانے کے لیے بنائی جا رہی ہیں اور انہیں رسموں نے ہی دلوں سے محبتیں چھین لیں ہیں پیارے دوستو ان رسموں کو اہمیت دینے کی بجائے رشتوں اور ان رشتوں کے گلشن انسان کو اہمیت دیں تو مشکلات کا سامنا نہیں کرنا پڑے گا اور با آسانی معاشرے میں خوشیوں کو جنم دے پاؤ گے ہمیں اپنی زندگیوں کو نبی ؐ کے فرمان اور طور طریقے کے مطابق گزارناں ہوں گی اور تعلیمات پر عمل پیرا ہوکر ہم اچھے کی امید رکھ سکتے ہیں ورنہ روز بروز مشکلات میں اضافہ ہی ہوگااللہ پاک ہمیں اسلامی قوانین پر عمل پیرا ہو کر زندگی گزارنے کی اور ایک دوسرے کے ساتھ احساس ،محبت ،بھائی چارے سے پیش آنے کی توفیق عطا ء فرمائے (آمین)

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں